بدھ 7 جنوری 2026 - 16:10
ایران میں موساد کے لیے جاسوسی کرنے والے مجرم کو پھانسی

حوزہ/ موساد کے لیے جاسوسی کے جرم میں ملوث "علی اردستانی بن احمد" کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ یہ سزا بدھ کی صبح 17 رجب 1447 کو سپریم کورٹ سے توثیق کے بعد تمام قانونی مراحل مکمل ہونے پر نافذ کی گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، موساد کے لیے جاسوسی کے جرم میں ملوث "علی اردستانی بن احمد" کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ یہ سزا بدھ کی صبح 17 رجب 1447 کو سپریم کورٹ سے توثیق کے بعد تمام قانونی مراحل مکمل ہونے پر نافذ کی گئی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق علی اردستانی کو سوشل میڈیا کے ذریعے اسرائیلی خفیہ اور دہشت گردانہ ادارے موساد نے بھرتی کیا تھا۔ اس نے طے شدہ رقوم اور جھوٹے وعدوں کے عوض موساد کے لیے متعدد مشن انجام دیے۔ شواہد اور ملزم کے صریح اعترافات کے مطابق وہ موساد افسران کی ہدایت پر حساس مقامات کی تصاویر، مخصوص اہداف سے متعلق معلومات اور دیگر مواد فراہم کرتا رہا، جس کے بدلے ہر مشن کے اختتام پر ڈیجیٹل کرنسی کی صورت میں رقم وصول کرتا تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کی موساد افسران سے صرف آن لائن نہیں بلکہ ملک کے اندر صہیونی حکومت سے وابستہ عناصر سے براہِ راست ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ وہ مختلف مقامات پر ایک متعین شناخت رکھنے والے فرد سے بالمشافہ ملاقات کر کے جمع شدہ معلومات، تصاویر اور ویڈیوز اس کے حوالے کرتا اور بعد ازاں نئی ہدایات حاصل کرتا تھا۔

ایران میں موساد کے لیے جاسوسی کرنے والے مجرم کو پھانسی

علی اردستانی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اسرائیلی حکومت کے لیے ایک مشن انجام دے رہا تھا۔ تفتیش اور انکوائری کے مراحل میں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے ملک سے غداری کا مقصد ایک ملین ڈالر کے انعام اور برطانیہ کا ویزا حاصل کرنا بتایا۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسے موساد سے اپنے روابط اور دشمن کے لیے قیمتی معلومات فراہم کرنے کا مکمل شعور تھا۔

تحقیقات مکمل ہونے اور فردِ جرم عائد ہونے کے بعد، تمام قانونی تقاضوں کے تحت مقدمہ عدالت میں چلایا گیا۔ عدالتی سماعتوں کے دوران بھی ملزم نے اپنے جرائم قبول کرتے ہوئے موساد کے ساتھ تعاون کی تفصیلات بیان کیں۔ عدالت نے شواہد، تفتیشی رپورٹس اور واضح اعترافات کی بنیاد پر علی اردستانی کو صہیونی حکومت کے مفاد میں جاسوسی اور تخریبی سرگرمیوں کا مجرم ٹھہراتے ہوئے سزائے موت سنائی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کی سکیورٹی مخالف سرگرمیاں دشمن کے منصوبوں کی تکمیل میں مؤثر اور ناقابلِ تردید تھیں۔ بعد ازاں مقدمہ سپریم کورٹ بھیجا گیا جہاں ججوں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو قانونی اصولوں کے مطابق قرار دیتے ہوئے اپیل مسترد کر دی اور حکم کی توثیق کر دی۔

بالآخر بدھ کی صبح 17 رجب 1447 ھ کو تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد موساد کے جاسوس علی اردستانی، کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha